سوال:#پولیس جسمانی ریمانڈ کیسےحاصل کرتی ہے؟
جواب: جسمانی ریمانڈ سیکشن 167 ضابطہ فوجداری 1898 ء کے تحت حاصل کیا جاتا ہے۔ جب کوئی شخص
گرفتار اور پولیس کی حراست میں ہو اور تفتیش 24 گھنٹے کے اندر مکمل نہ ہو سکے تو ملزم کوفوری طور پر علاقہ مجسٹریٹ یا قریبی مجسٹریٹ درجہ اول کے رو برو پیش کیا جاتا ہے۔ اور ایک تحریری درخواست برائے جسمانی ریمانڈ پولیس ریمانڈ کے ذریعے عدالت سے جسم ملزم حوالہ پولیس کرنے کی استدعا کی جاتی ہے اور اگر تفتیش چو میں گھنٹے کے اندر مکمل ہو جائے اور مقدمہ کی سماعت شروع نہ ہوتو تحریری درخواست برائے ریمانڈ جوڈیشنل کے ذریعے ملزم کو حوالات جوڈیشل میں بھیج دیا جاتا ہے۔
جسمانی ریمانڈ کون دے سکتا ہے؟
جسمانی ریمانڈ پولیس ریمانڈ صرف اور صرف مجسٹریٹ درجہ اول دے سکتا ہے اور خاص حالات میں اگر حکومت کی طرف سے نوٹیفیکیشن جاری ہو تو مجسٹریٹ درجہ دوئم بھی جسمانی ریمانڈ دینے کا مجاز ہوتا ہے لیکن عام حالات میں مجسٹریٹ درجہ دوئم اور مجسٹریٹ درجہ سوئم جسمانی ریمانڈ ا پولیس ریمانڈ دینے کے مجاز نہیں۔
جسمانی ریمانڈ پولیس ریمانڈ کون حاصل کر سکتا ہے؟
ضابطہ فوجداری 1898ء کی دفعہ 167 ضرف کے تحت جسمانی ریمانڈ پولیس ریمانڈ سب انسپکٹر یا اس سے اوپر کے عہدہ کا افسر حاصل کر سکتا ہے۔ اگر اے۔ ایس۔ آئی یا ہیڈ کانسٹیبل انویسٹی گیشن آفیسر بھی ہوں تو وہ جسمانی ریمانڈ ا پولیس ریمانڈ حاصل نہیں کر سکتے۔
پولیس کو جسمانی ریمانڈ کی ضرورت کب ہوتی ہے؟
پولیس کے پاس جسمانی ریمانڈ پولیس ریمانڈ حاصل کرنے کے لیے ٹھوس وجوہات ہونی چاہیے۔ مثلا ملزم سے قتل کے مقدمہ میں آلہ ضرب کی برآمدگی ، مقتول کی نعش کی برآمدگی کے بارے میں اس کی ضرورت، چوری کے ملزم سے چوری شدہ مال کی برآمدگی ۔ گینگ کیس میں دیگر ملزمان کے بارے میں انکشافات کا متوقع ہونا وغیرہ۔ جسمانی ریمانڈ کے لیے مندرجہ بالا وجوہات کا ہونا بہت ضروری ہے۔ ان میں سے اگر کوئی بھی ٹھوس وجہ نہ ہو تو مجسٹریٹ جسمانی ریمانڈ کی درخواست قبول نہیں کرتا۔ اور ملزم کو جوڈیشل کر دیتا ہے۔
جسمانی ریمانڈ لیتے وقت کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے؟
انویسٹی گیشن آفیسر کو چاہیے کہ جسمانی ریمانڈ پولیس ریمانڈ بیک وقت 14 یوم نہ لے بلکہ تفتیش اور واقعات کی نوعیت کے مطابق 3 یا 4 یوم کی صورت میں لے جو کہ مجموعی طور پر 14 یوم ہو۔ کیونکہ 14 یوم سے زیادہ جسمانی ریمانھ عام حالات میں نہیں دیا جاتا تا وقتیکہ خاص حالات نہ ہوں۔
:جسمانی ریمانڈ کی رپٹ روز نامچہ اور ذمنی کا اندراج پولیس رولز 1934 ء کے مطابق ملزم کو مجاز مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے کے لیے ، پف روز نامچہ میں اس امر کو تحریر کیا جائے اور اس طرح متعلقہ ریکارڈ مقدمہ میں واضح طور پر یمنی تحریر کی جائے۔ تا کہ بوقت مقدمہ کے ٹرائل میں کام آسکے۔
مختلف مقدمات میں ملزم کی گرفتاری اور جسمانی ریمانڈ کا :طریقہ کار
دوران تفتیش ملزم کے خلاف ایک ہی تھا نہ میں ایک سے زائد مقدمات ہوں تو گرفتاری کے بعد اگر کسی ایک مقدمہ میں جسمانی ریمانڈ پولیس ریمانڈ حاصل ہو گیا تو دیگر مقدمات میں بھی وہ جسمانی ریمانڈ تصور ہوگا۔ یہ بات خلاف قانون ہے کہ اگر ایک مقدمہ میں چودہ یوم جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا جائے تو پھر دوسرے اور تیسرے مقدمہ میں چودہ چودہ یوم علیحدہ علیحدہ جسمانی ریمانڈ حاصل کیا جائے ۔ بلکہ 14 یوم کے بعد ملزم کی حراست غیر قانونی ہوگی اور اس کے لیے انویسٹی گیشن آفیسر پر مقدمہ درج ہو سکتا ہے اور عدالت ایسے ملزم کو ڈسچارج بھی کر سکتی ہے۔
:زنا کے مقدمہ اور عورت کے جسمانی ریمانڈ کا طریقہ کار
اگر کوئی عورت اپنے آشنا مرد کے ساتھ زنا کے جرم میں شریک ہو تو ایسی صورت میں انویسٹی گیشن آفیسر کو چاہیے کہ عورت کی برآمدگی پر فوری طور پر اس کی دریافت کر کے علاقہ مجسٹریٹ کی اجازت اور عورت کی رضامندی سے فوری طور پر اس کا میڈیکل کرا کر جسمانی ریمانڈ ا پولیس ریمانڈ حاصل کر لینا چاہیے۔ رات کو تھانہ میں عورت کو نہیں رکھنا چاہیے کیونکہ اکثر عور تیں پولیس افسران پر خواہ مخواہ زیادتی کا لزام عائد کر دیتی ہیں۔ یا پھر اس کے جائز وارث وغیرہ کو اس کے ساتھ رکھا جائے نیز عورت کی رضا مندی کے بغیر میڈیکل نہیں ہو سکتا۔
سنگین نوعیت کے مقدمات میں ملزم کی حفاظت اور جسمانی ریمانڈ کا طریقہ کار:
انویسٹی گیشن آفیسر کو چاہیے کہ اگر مقدمہ سنگین نوعیت کا ہو، یا پارٹی بازی کا ہو، یاقتل کی واردات میں ملزم ملوث ہو تو ان حالات میں انتقامی کاروائی کے تحت فریق ثانی ملزم کو قتل بھی کر سکتا ہے۔ اور اکثر ایسے
واقعات دیکھنے میں آتے ہیں۔ اس لیے پولیس افسر پر لازم ہے وہ حالات کی نزاکت کے تحت مسلح گارڈ
کے ہمراہ عزم کو عدالت میں پیش کرے اور ملزم کی پوری حفاظت کی جائے۔
انویسٹی گیشن آفیسر کو جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کے لیے :چند ضروری ہدایات
انویسٹی گیشن آفیسر کو جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کے لیے چند ضروری ہدایات درج ذیل ہیں۔
: انویسٹی گیشن آفیسر کو چاہیے کہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست خود اپنے ہاتھ سے تحریر کرے۔ انویسٹی گیشن آفیسر کو چاہیے کہ گرفتاری ملزم کے بعد جسمانی ریمانڈ پولیس ریمانڈ حاصل کرنےکی وجوہات
مکمل تفصیل کے ساتھ تحریر کرے۔ انویسٹی گیشن آفیسر کو چاہیے کہ فردات برآمدگی، نقشہ موقعہ اور تمام ضمنیات تفتیشی آفیسر کی ذاتی قلمی ہوں۔ کسی ریٹائر ڈ پولیس آفیسر سے ہرگز ہرگز ضمنی تحریرنہ کرائی جائیں۔ انویسٹی گیشن آفیسر کو چاہیے کہ اگر ملزم کے خلاف ایک ہی تھانہ کے دس مقدمات ہوں تو جسمانی
:ریمانڈ پولیس ریمانڈ صرف ایک مقدمہ میں حاصل کرے۔
انویسٹی گیشن آفیسر کو چاہیے کہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی تعین کا بیاں تیار کر کے مجاز مجسٹریٹ کے روبرو پیش کی جائیں کیونکہ ایک کاپی مجاز مجسٹریٹ اپنا حکم تحریر کر کے ڈسٹرکٹ اینڈ
سیشن جج صاحب کے پاس بھیجے ۔
:انویسٹی گیشن آفیسر کو چاہیے کہ چودہ دن گزرنے کے بعد جب ملزم کو حوالات جوڈیشنل میں بھجوایا جائے تو فوری طور پر چالان پیش مکمل وجوہات کے ساتھ درخواست ریمانڈ التواء تحریر کی جائے۔ جو زیر دفعہ 344 ض ف تحریر ہوگی۔ چالان مکمل پیش کرنے میں غیر ضروری تاخیر نہ کیاجائے
:انویسٹی گیشن آفیسر کو چاہیے کہ جسمانی ریمانڈ پولیس ریمانڈ سب انسپکٹر کے عہدہ سے کم عہدہ کا افسر حاصل نہیں کر سکتا۔ اس لیے ریمانڈ کی صورت میں سب انسپکٹر سے کم
عہدہ کا افسر نہ بھیجا جائے۔
: انویسٹی گیشن آفیسر کو چاہیے کہ اگر چند روز قبل ملزم جسمانی ریمانڈ پر رہا ہے اور پولیس کو مزید جسمانی ریمانڈ کی ضرورت ہے تو اس صورت میں حاصل ہونے والی مکمل شہادت، گواہان کے
:بیانات انویسٹی گیشن آفیسر کو چاہیے کہ مزید ریمانڈ حاصل کرنے کے بعد مزید حاصل ہونے والی شہادت بھی اکٹھی کرنی چاہیے اور پوری کا روائی ضمنی میں تحریر کرے۔ انویسٹی گیشن آفیسر کو چاہیے کہ کسی بھی صورت میں ریمانڈ مجسٹریٹ صاحبان کی رہائش گاہ پر حاصل نہ کرے.
:انویسٹی گیشن آفیسر کو چاہیے کہ غیر ضروری طور پر ملزم کا جسمانی ریمانڈ پولیس ریمانڈ حاصل نہ کرے۔
:انویسٹی گیشن آفیسر کو چاہیے کہ ریمانڈ کے بارے میں مجاز مجسٹریٹ ملزم سے استفسار بھی کر سکتا ہے اور ملزم اپنے ریمانڈ کی مخالفت میں عدالت کے سامنے اپنے دلائل دے سکتا ہے۔ اس لیے پولیس آفیسر کو مکمل تیاری کے ساتھ عدالت میں پیش ہونا چاہیے اور عدالت کو بتانا چاہیے کہ وہ کن کن وجوہات کی بناء پر ریمانڈ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ انویسٹی گیشن آفیسر کو چاہیے کہ اگر ریمانڈ کے دوران کسی قسم کی تفتیش عمل میں نہیں لائی گئی تو اس صورت مین مجسٹریٹ صاحب جسمانی ریمانڈ پولیس ریمانڈ سے انکار بھی کر سکتا ہے اور ملزم کو حوالات جوڈیشنل بھی بھیج سکتا ہے۔ اس لیے لازم ہے کہ دوران ریمانڈ تفتیش عمل میں لانی چاہیے اور تمام تفتیش کو ضمنیوں میں تحریر کیا جائے ۔
______________


0 Comments